اسلام ےکا معاشی نظام ات
ارالریسن ال ریم
الام مکا متا نظام
ٰ اعلام اتا ےکہانسا نکی زندی معاشی طور پر غونل حال ہو۔ وو ای ےتقوقی عط ارتا
ےاورال کے لے اجتا ھی عالات پیداکرتا ےک ہراجا گی خویش حالی حاصسل ہہواورکوئی فردختہعال
ورای ھا می سگمزرے وال یع انسالی زنک یکا صر ف اک ھا سا حصہ ہے زندگی ال کے
یھی چاری ر ےگ ءاہنراانما نکامقصودارسی فلا وسحاد تکاتصمول ہونا جا کہ جصرف دنا
صضریٰۂر فہمری نات بربھی عاوکی ہو۔ می بات الام ای نیا مکودوسرے
ظاہرں سے متا زکرکی ہے ۔کیو ںکہ ان ظاوںل یس 8ش ی رین مقام دن وی 77 ای
ڈررو نو اگل سے ج بک اسلام میس ما کی قد رم کن ایی تر اخلائقی قد روں کے ماع ین
جوانسائوں کےآ تا بر وردگا رکی مض کی اوشیقی فلاح کےفطرتہ انسای نی تقاضضو ںکیکجیر -
ہیں۔ اسلام اتی نظام یر قشہسے ا مگ کے دوسرے انم پہلووں شا
روعالیء محاشری اورسیاسی پپپوون کے بارے می اسلائینفلیمات سے م7 بن کک ررکھا ہے۔
پرےامسلائی نظام ذندگی می گر ہھاجعاورمض ہاج کے انار ےگل ہ مآ ہگ ی ای لی ہے۔
ْ زدگی کے معای پہلو کے بارے میں اہین اس نقطہ نظ ر کے مطا بی ء شس میں دنیا
آخرت سج انی نزمدگی مل کے دوسرے پپہلووں سےاورفردپرے انسالی معاشرے سے
ہماط سے اسلام نے معائی جدو جہد کے پیند یرہ مقاص دک نشان ددیکی ے۔ افرادکو ما لکانہ
20 سیے ہیں اورکادرد با رکآ زادگی دکی ے۔ ماش رے بیس ابا ۓ ع ہہ ععرل و انصا فک اور
ک 00-1 ور ے اورریا ہت براتماگ یکفاات اورمحاش یمر وت ٹی کےسلسے
:- اس لاجر ٣امحاضی فظاے
خروغ داریال 027 ہیں ساب بی ا نے محاشی سرک ری کے نا لند دہ متقاصدکی
ممتکل سے عککییت اورکارو ہار کےتقو کو چندآداب وحدددکا پابند بنایاے اور انف راد یآزادگی
اوراشا گی مفادات دمشمار کے درمیا نٹ ازن برق ار رکھنے کے لیے چنداصول مقر بے ہیں۔
۱ ےٍ
محائھی جد وچ ہدک ند بادگی
عام طور پر رہب کے ۱ج بخیا لکیا جات ےک دو خیش عا کی طلب اور
متاشی جددجہدکو ند بدگ کی نظ ےکی د بنا بلک ایک تاکز م براک یج ےکن ںگوا راک ر لیا ے۔
اسلام کے بارے می الیما خی لکرناپا لکل غلط ہوگا کا نات کے جملہ وسائل الد تاٹی نے انسان
کے استتفھادے کے لج پر سے ہیں اورانسا مو ںکو خیب دی ےک لے دل ۳ء0۳
تاں سے فائحدہ اجھائے ہو ئے ایٹیضرودیات دی ۷ری اور ا ک1 سود نکر با مقصید زندگی
گار ےکا اما مک میں۔ا تی انمانو ںکیخاط بک کےفر اتاے:
لق مكُنکُمْ فی الرضِ وَجَعلَا لكُمِيْهَا معایش٠
)٦٭:ف۱۶۱( ۱
بے یں ز مین ٹیل اخحتیارات کے سا تھ رسابااورکھارے لیے یہاں ساما نز ایست
فر میں“
هُو الّذِیْ حَلَق لَّكُمْ مًا فی الأٗرُض جَمِيَْا ذ (لتر,:؛:)
دی الد ے مس نے ز مین ٹیش جو ریتھ سے س بککھا رے ےی بھااے۔
گلا مِنْ رَرْقِ رَبَكُمْ وَاهْکرُوالَه٭ (:ہہ
اپنے ر بک دی ہوکی روز یکھا اور ال سکا شک بچالا کب
مَیْ حَرّم رَیَة الله اي اَحْرَجٌ لِعبَادم وَالطَيتٍ مِنَ
الرَزّق۔ (۶۱اف:٣۳)
(ا ےئ )٢ ان ےہ وکس نے ال دکی از هن تکورا مکردیاء سے اود نے ہے
بندوں کے لی کالاتھااورکس نے مد اک یپبئی ہہوکی اک چی زی نو کروی ں۷“
ال قام حیا تکاذر اجرے:
َمُوَالكُم اَی جَعَل الله لّكُمْ قَيٰمًا (ص(,:٥)
تھارے دواموال یش نکوال ن ےگھھا رکی ذ کی کے قیا مکاذ رجہ مایا ے۔'
7
اؤہ کا بعاغی ظللمے ۵۵
ظا لے
فَاذا قضِیّت قُضِیْتٍ الصَلوۃ فانتشِرُوا فی الازّض وَابَتغوًا مِن
وف الله (ا جھے:٭٥)
نر جب ماز پوری ہو کی ز مین می سکگیل جا واورا انل ڈعوبڑو۔'
یا می نے ریاھی دا فرمادیا ےکہ مال می او رچھلا کی میس مددگارہوسکا ے۔
نعم العون علی تقوری الله المال(منرااماص طر۵ صف )۲۱٢
”ان کات کی افقیارکر نے یس مال بڑاایچمامردگارے۔'
اور رام دوذن گی کے مال کی و سال ند بی واورمطلوب ہیں :
من سعادة المرء المسکن الواسع والجار الصالح
والم رکب الھنییئ (باری:الاابلفررگ۶٢٥)
من مکان ء نیک پڑ دی ۱او رید سار یآ د یکی ہہبودیی یس دائل ہیں
اس کے بس پھوک اورافلاس وک دی انساٹی فلاع کے وشن میں ءننس سے مین
کی وش ضروری ے۔ىی ح نا دعافر مات تے۔
اللھم انی اعوذ بک من الو ع۔(نسائیءکابالاستماذ٤)
خدایا یش سپھوک سے تیر پناہ چابتاہوں۔'
الم انی اعوذبک من الفقر والقلة والذلة
( اریہ الا دب ا مفرد ے ۹۹)
”دیاش فقر افلاس اورذات سے تیر پناہ چاہتاہول..._'
آپانے دا فر مایا ےکددوز کان ہنیک کے لیے ضرودبی ے :
طلب کسب الحلال فریضة' بعد الفریضة (سلةتاب|موغ)
”ولولائڈئلٹئئیہزئزعستیا و ے>
محائی چروچچو کےمقظاضرشش چہال انی ضرورت اوراپینے ال نا ندا نکی ضروریات
کی تی لکوا ب مھا کیا ے۔ وہا ںیل کے لیے یں اندا زکمر نے اوراۓ بعد پگ کہ
بچھوڑ جا ےک وبھی ممقول متقاصد شا رکیا گیا ہے ند یدہ مقاصد یل سے ایک ا؟م مقصر
خمرمت نکی اورخدعصت د مین یا ز یاد جا الفاظ یش ئی نل اللہ مال خر کر کا مقصدر
٠ اسلام ےکا معاشی نظاے
بھی ہے۔آھی مقاصد کے یی نظ اسلام میس دوا تکمانے برکوگی ملق حدنییش عا دک یگئی ہے۔
سای خدمت اورراو مدائشیل سے جانے وا ےکا مو ںکا مہرالن ا رود ہے اور جدو چجہد کے
لیے وع تین موائش ف راپ مکرتا ہےر ہیں صنعت وقرقت اور زراعت ونیارت وظیم رہ ٹتحلق
دوس رگرمیالء جوا کی محاشی زندگی کے لے نگم مہہوں و ا نکا بھالا ناافراد کے لیف شکفاىہ
قراردیاگیاے۔ جوافرادان کے لیے ضروری استحداداوروسائل رت ہہوں انی ںآ کے بر ےکر
ا نکواضیامد بناج ہے تا کم لت ا شا صا ا تفوظار ہیں چناں چرامام ائکن تج ان ز مانے
جنیچ دعو میں صریی میسو یکین بزی دی عصنعت ںکا ؤک کر کے لکتے ہیں :
متعدفقم ےاسا مزا شال اوراھ بن ا کےس ول اوردو سر یکر من شا
ادا مرالغخزالی اورابوالفررع الجوزکی وظمرہ بر رائۓ رھت ہی سک رسار میں فذرض
کفام ہیں ۔کیو ںکہان کےپشیرمصاغ عا کا ومک نہیں (ا ہف الاسلا مم ء١١)
ام فو وئی او یق ائن عابد بن شا ان یھی بی رائۓ ظاہرکی ے۔
پند یرہ مقاصد کے لی موی جددجہد وی دوسرو لکی ریش میس ہوء یا زیاددے
زیادہودوات ش کر نے کے لی کی جا ہیا جس کے ذر یی ےیئل وکشرت میں ڈولی جہوگی زن دی
بس کر مقصودہوہگنزاہ ے۔ بی ع ینگ نے ف رمیا ے :
من سعی علی التکاثر فھو فی سبیل الشیطان
8 جوزیادہ سے زیادہ دوا کی تی یل مصروفٹمل ہدوہ حیطا نکی راہ ئ شکام
رح و
ماذئبان جائعان ارسلا فی غنم بافسد لھا من حرص
المرء علی المال والشرف لُديٹ۔ (سٹن دارمی: کتاب الرقاق)
: دی کے دین کے لیے مال اود جا ہکی تی اس سے زیادہ تاکن سے جقنا بجر بییں
کےر اوڑ یں دوکھو کے یر و ںکوچھوڑر یا_''
نفرادی لیت او رآ ز ادکیکاروپار
اتا لی نے ء جوکا نیا تکی تام اشیاء یہ لک کک خودانسان اور ا کی قو تی لکی
داع ۂ نیقی ما نک ےءانسا نکوکایت کے تقو عطاک/ر کے ند بدہ مقاصد کے ل ےکی جانے والی
اسلام ےکا معاشی نظاے ۔ و
جد جہدکی ہمت افزائ کی ہے۔کتان ا ن تق کی نوعیت اصمل مان ککا نا حب می نےکر ا سکی می
کے مطاب تصر فک نے کےتق نکی ہے۔ اسلام می اف دی حلکیر ت کات ملق اور بے قی یں
بلہ چندمتقاصر کےقجحت چندف ال ے وابست اور ند تقو یک مانرقی ہف سیل ایا ے ضرف
کر ےاوروسائل پیراوارٹ1 زین :,ٔیثوں اورکارغالوں سے میں بھی کک
7 کے ساتھ بی انشحارمح اور ر یاس تکوگھی مایا تم وی دے گے ہیں اور ر یا س تک انف رادی
موق کی ت کا انراں اورییاسب بنا اکرا ہم اتا گی مقاصدےکحھت ا نع تقو ق میں مرا خلت :ا نکی
تد بداو یجن عاات بی ا نکوسل بکر لے کا بھی اخخمیاردیاگیاے۔
فرا مکی تکا دو اسلائی ھا نکی یس ناد ہی ت کا عائل ے۔فردکا
اخخلائی اورروحا ی ارتظگاء ال تن کا تتاصی ے۔ا سن مر اسلا مکا ورای سای نظام کیل
ائم ہکن نہمساوات اورتھا نکی معاشرلی ری اس کے اف شرمند ای تی ہیں ۔اسام
اس لن کول اتا ےکہانساٹی سعا رح ے اتتصال نے عانکے انا لے مگ جاوزا پراوار
2 0
انمانی زندگی کےئشت کہ مفاوات کےۓتحلق مض وسرائل براسلام نے انفرادئی کلت
ممنو شراردئی ے۔ شا دریاء پہاڑفضائۓ بیط ادرتھی وسائل مین سے ڑکیس ہ میں دخہ رہد
عام اشیاء بس یکھی انسا نکی عکیت تائم ہوستی سے ۔کایت کے جائمزذ رگج ہیں چہاں خر یکر
عاص لک رن یا دورئے بیں یا نا شائل ےو اں غی لوک مباب چزوں بر قضہاوراٹی لیت سے
پرر ی ور ینمودارہونے وا نل ےرات کی شا ل یں جنگ لک ینکڑباں اور جا مور جودروناجاتء
در یں اورمندرو کال یں اوردوسری زی ہزین ہی ہوئی یں پہاڑوں کے
پچ راورافدوزینٹیں وومراخ وسائل ہیں ؛غن یں سے ہرفروکواس حدکک انی لیت ٹیٹس نے لین
کاانیارے: جس عدکک و مفیداستعال یں لاسکتا ہو الہمتہ با بھی غ زا کےسحد باب کے لیے
ریا ست ا تی کے استعا لکو چندآداب وعدودکا پان بناستی ہے۔ نی زسیک فبض کر کے ال
رکھنےاوراستعمال یں ن لا ن کان نکیں۔
الا مکی اشیاء یب استعال ونصر فکا تق سسلیمکرتا ےگر ما لکوضا کر نے اسے
مب ری مصدارف پرصر فکمر نے یا اصراف اور لک یکا ذ رجہ بنان کا عق یں دتا۔ مردوں
کے لت کرت دوردونے کے استعال مردوں او رگرروں رولوں کے لیے سونے اور
جا مدکی کے برتنوں کے استتعمالء تج جوا :شراب ءز نا اورٹھس وصرووکوترا مر کے اسلام 089۰2
شر تکی تجڑ ری کاٹ دکی ہیں ۔ اسلام سی فروکواپی لیت کے لیے ا ہے اسقما لکالت نیس د یناہ
مس سے دوسرو ںکونما ا ں آلیف یہر ا 7 سے کہرانی طاب تکوم رووا یکا نے کے
لے استعا لکمرے اورجچاار بی ءزرگی اتی ککام خووکرے بای کے سا تھی لک امحجام دے۔ اپنا
الع میں شرکت کے اصول پکاروبار کے لی ےکی دوسرےکودے با اتی چائکدادلوکرایہ برےدے۔
من یتو یھی چندآداب وعدود کے پابند ہیں ۔ اسلام راست بازگیء امات دارگی اور
دہاش یی نکر سے۔ کیٹ ریب سے اجتنا ب ملاو فک نے سے پر ہی زاورنا پ نول کیک
رک ےکا عم دنا ے۔دام بڑھا ہے کے لیے ذتیرہ ائدوزگ (اگار )اورععیا عا مہو روح
کمرنے والی اجار ہدارک یکیو قراردیتا ہے۔دام بڑھانے کے لیے جب رو اراہس ےکا می لیا
عاعکماء نل یکی شر اضاق 00 جا رام وضول سے جا سک ور ار ان
کاردپارگی معاملات پر یابنلدگی عادکردییگئی سے جو لایعی با عد تی نکی وجہ سے فرلنین کے
درمان نک ےکی بذیادبین کت ہہوں ء اشن کےو رکا انار بت وانفاقی یر ہو۔ جواترام سے
اورو تام موا ملا بھی بن یں تما رکا خر اب ہو۔افرادکوجایےک لی 2 کی خاطراے
طرتے نایا رکر نشن ے دوسرے افراد کے مفادات مجروں ہے ہوںلء للہا لی راہ
اخیارر ٹس ٹس ای فانمدے کے سا کو دوسروں 1 بھی چھلا ہو۔ اسسلام ار اوگوایک دو ےکا
ضیف اورجخالف ہک نک ر بے کے ہیاتے پھاگی بھالی بک نک ر بے اور ایک دوسرے کے سا تج
تاد نگمرنے پرا چھارتا ےکیو ںک نا مدان انسا لی یں پا بھی مل کی فطری میا دم سلدنہ
می پٹ نےفرمایاے:
الخلق کلھم عیال الله فاحبّ الخلق الی الله من احسن
ای عیاله (مشکوٰۃء باب الشفقة والرحمة علی الخلق)
”سار یخقلوق دای عیال ہیں اورارکوا یوق بی سب سے زیادہکروب وہ ے,
جوا کے عیالی کےسا ھ ابجچھابرجا کے
کونوا عباد الله اخوانا اے مل مہا جک ضسرعین چو یل
حجة الوداع) بولا ق ۱۲۹۰ھ)
ال کے بنلد ےاد را یک دوس رے کے بھی بک نکر رہوے“
اسلام ےکا معاشی نظاے ۹
انا شھید ان العباد كکلّھم اخوۃ۔ (ابوداؤدہ کتاب الصلوٰۃ)
نی سگواہ ہو ںکہسارے بن گان خدا ھا گی چھاگی ہیں
اسلام نے مان ککواپنے مال کےجحف ظا دیا ےگریل او رو یک مخت رم ت کی
ہے او راکنا زین روا کو ںہ عک رم رح او رخ رجا مرن أکی عماع تکی ہے۔ ا ںییم یہ
-..ھ٭)ءھ,6,] جس س کا خودکا من ہوعام انسافوں رر کرد تی جا ہے۔
۲ لاک مَاذا َففقُونَ قُلِ لْعَفرَط (التر::۲۱۹)
یل کآپ سے ددیافتکرتے ہیں کہ(راوخداش ) کتا خر کر سں؟ کی ج
کیج تھا ری ابی ضرورت سے )فاضل ہو
یا ابن آدم لک ان تبذل الفضل خیر لُک و ان تمسکه
شر لف (مسلم: ناب الز کات
ا ےآ دم کے بی تیرے لیے اپینے فال ما لکا (راو خداٹس )خر کرد ینا ھر
ہے اورا سے روک رکھنابر اے_'
تقو ق لیت کے سا تح پھوف ان بھی وابست ہیں۔ذا ی ضروریا تکی ایل کے بعد
0-4 رارقا ۔ے کہاپنے ناداراورتارج رش دارو لک کال تکرے۔ ہرددر مت دار
جھءاگر ھک یچھوڑ جائے فآ پ اس کے وارث ہوں ٢د ہاگ اپٹی زندگی ٹس دوسرو ںک یمکفالل کا
ختاع ہو آ پگھی ۱ یکین فاات نے دار یں اور ہرڈڑے داریا 7 7/) ے٤
نس خببت ےآ پکواس کے تر کے بیس سے حصہ متا ۔نفقات واجبہ کے علادہ مال دار اف رادکی
ایک نکی ذے داری زلڑڑ ے۔ مہما نکی ضیافت اورتارج سا لکی امداداھی فرش ہے۔ اکر نی
٦1 0 جا ن موک سرد یا سی نماد ضرورت زندگی اصم 5 کےسب ب خطرے میں پہولو
ا کی ضرورت پیر یکن ہراس فردکافرٹش ہےء جوخوداس خطرہ سے باہ رہو۔ اسلام چاہتا ہے اہ
خاندان انی کےتمام افرادکی ضردریات بہ ہرحال لپادیی ہوٹی ر ہین ع نراس سےکیکون فرد
ال دار ہے او رکون مھروم کیو کہ وسائل حیات قام حیات کے بی پیرا سے گئے یں۔
جی اک ای کآ یت ق رآ نی کابیگڑاصراح تکرتا ے'”َمُوَالكُمْ الِي جَغَل الله لّكُمْ قِِما
لآ ء:۵) ”تھا رے دا موال یش نکوائشد ن تھا ری ذ گی کے قا مکاذ رجہ ایا ےٗ
آکے بڑ ھن سے پیل بدا کرد ینا مناسب ہو لیت کےتقوق اورکارو بای
۳ اسلا ےکا معاشی نظام
آزادئیاسلل رٹک زبان ۰ رہب طبقہاورصن فک بفیاد بس یآف بی کے اغیرقمام افرادانمالی
کے لیے ہیں۔ اسلام نے ان بیادوں بی کے س اج کوگی ایا زی سلو کی ںکیا ے ایس
کورلوں اور ردوںل کے درمیا نچ یکو ینف نیس ہل ے۔ تتقوقللیت میں آزادی اکاروبار
شن رق ان ٹیر و تا تصم دک آدھا رک ھا گیا 1ئ
نماد راتیازی سلوں ہیں بللہ یہ ےکیعور تکی محاشی ضروریا تک یتیل ہرحالات میں
می نیدی مردی انی ڈمے داری ہوئی تد عفلے ا کنا پچلرش ہ رکی۔ نر بل برآاشں مرداور
ور تا لکرہ جو نما دائنع بناتے ہیں اس بی و ںک یکفالل بھی اصلا مدکی ڈےداریی ے۔
رض کو
اسلام نے اجشما گی طور بھی اس با تکا اجتما مکیا ےک امفرادیی معاشئی سرگرمیاں
نیس۳۴ خمادم کا ریں: چناں چاسلائغ نظام ۔ُل اخّا اور ریاست ان
سس یتوس 7پ قرا ل/ر ود راکرس ںا س٣ ا نیا دی ایمی تم اور
شرسا رالاس لقرل گرڈ وج گل ے۔ا لک 1 ہیں اسلام سا
اخلاقیٰ *معانشرنی اورسا سی نظا تھا ہم مے لیے ہی ںین یہاں ہم انی نظا ریبدت تصرف
دوا پھ ٹوا می ن کا ذک رک ریں گے یچنی زکو ق کی فرضیت اورسودکی قرمت ۔ دوفو تو این اساامم کے
متائی نظام می لکلیاریی اببیت ر کھت ہیں اور ا سکاعزا نج تی نکر نے میں مر اوشل رت ہیں۔
ز ۃ کے پارے می ںکوکی اس خل ھی یش نہ بنلا ہوک یہ اہ لم مکی رات یا دان بن
ہے یم کا ذکردوسرے مرا ہ بک نشعمات بی ملا ے۔ مہ مال داراف راد کے مال بیں ناداروں
کا لا زگ یکل ے:
اَموَالِهمْ حَق موم 9_ لِلسَايِلِ وَالمَحْرُوْم/
(الماررح: ۲۵۰۲۳)
ان کےا موال میں سائل اورختارج کے لیے ایک مترر وی سے
این یچھی نہ کہ ریا لف کان ےج ہراجا تی نام مٹش مال داروں ے بصول
کیاجا تا ہے اک بکومت کے مصارف پورے کیے چاگیں_ زکو مار فبحھراٹی کیبل کے
لیے ھکد کے چانے والافل ینڈس بلکہ اع کے ادارو کان ے, جونھی نت لکردیا جا ےگا۔
الله افتَرَض عَلَيْهِمْ صَدَقَةُ فی اَمُوَالِهِمْ نَؤْخَدُ مِنْ
اسلام ےکا معاشی نظاے 1
اغَييَاءِ هِمُ وَ تَرَذ غَلی فقرَای ھم ( جج بخاری1تاب71و)
ُ .ادن الن پر ال نکی دوات یل پنوصدق فن شلکاہےء جوان میس سے مال داروں
سے جصصو لکیاجاےگااوران کےتربیوں کے ددمیا تس کردیا جا ےگا
ار ماب ۓترال٣ل شر ل سو لاقمتازے۔
خذً مِنْ موَالِهمْ صَلَقة تطْھ>رُهُمْ وَنْزَكيهمْبِهَا (2, ۳)
پر لے ران کےاموال یس ےصق ےک رای پا ککر دای یک راو یش
یں کے بڑھاء_“
ما لکی اکر اقسمام قائل زکو ت ہیں شا ترما رادرس نا جا ندکیء مال تجارتءزذرتی
پیبرادار: موی ء معدد می دوات وغیرہ_ زکو کی شرعیس اور ما یکی وم 6 و
اک پر زکو و فرش ہوگی :ہش ریعت نے تو نکردی ہیں_ زکو کی محائی اعحیت مہ سے اس کے
زار یے پرمال ما کی دوات کا ایک حصسہبال داروں سے نادارو لک رض نل ہوتارچتاے۔
اسلام اکر چیم دولت می کال مساوا تکا ما لیس سے کان استدداداور مو اح کی قررلی
تی فیرسادی ہونے کے پش نظ اضانی سان مصستفل طورحراس بات کا ہا ے تیم
دوات میں عدرم مساوا تک مرن ےکا تما مکیاجائۓ۔اسلا مک قالونز رک ہچ یکا مک رتا ے اور
یکام اس نے اپنے ضابطۂ مبراث بھی لیا ہے۔ اکر چرضابطۂ مرا کا دا روکل خاندان
اور براددکیاتک مدودر ہتا ے ان ہرخا دن اور برادیی می تیم دوات کے اندرجموارگی پیدا
کرت ورے ماشرے کے لے دورد شا کا حا ہے۔ ہبی تال کر ےکس
رنے دا ےکوی شی دارث نی ہوا کات کہ ورےان وا رہ جہیانے کے لیے در یاست
کے یت الال میس داش لک رلیاجاتا ہے۔
ری سور
زٌکوۃ محاشٹی زندگی می با بھی تتداو نکی ایک افو شحل سے ماذہبرست انسانو ںکی
خو خی نے دوب ناونع کے خلاف ایک ظ انہب کال رکھا ہک دوات مند اف راداہۓ ال
رما ےکوئ رد نو اں روروضول کم یں۔ اسسلام کے رد 2 ہے یمیا کہا ںلآیت
ح-ك3س؟ ہے۔
کر ہد تپ
ا ھر۹:۱ءے۲
۳ اسلام ےکا معاشے نظام
اکم (سودی معاطلات سے ) نے برک راو تھا رے راس الما لھا رے ہیں ۔ل( ددم
کلیس کے )تک مکر ونم نک مکریا جا ےگا
ذالی ضروربات کے یہ لیے جانے وا یلیٹ رضوں پرسودکا ما نہ بہہل ہر دی ای7
ے۔ ا صصرف وی لیک جائۃ قراردے کت ہیںء جوتی مکی تکو ایی تین قر رھت ول اور
دوسرےےمام انسای مصاغ کو اس برق با نکر نے کے لیے تیر ہوں ء جلیماکہنظام مار داد یکا
ماع سے۔لان بببت سے لوک بی خیالی رت ہی ںکہ جوقرتے پیدا ور تی ء زدگی یا تچارلی
کرو پارییش لانے کے لیے لیے جا میں ان رسود لیا میں سے۔ترصورتد واققعہ یہ ےکم ہر
ارد بارلازأ لف نی می ہوا کاردباری سلکھما ٹف ہوتب سر ماپ لانے وا لن ےکوجھی ا سکع یس
سے ۳ص لے ۔ اس سے بڑ لم او رکیا ہوک کاروبار می ںو نتصان ہو رس رما بدا رابنا لود اص ماریچجی
وابیں نے اورال ب اضا کا ھی مطال ہےر ےم رما کا کاردباریی استعا لی عال شنقصان
کے اندریتے سے نال ی یں ہوتا۔خواوسس رما بدار ال سے خود یکا رد با رکیوں تر ے۔نقتصا نکی
١ ےداریی دوسرے کے سڈ ال د ینا اورخدداپنے دی ہو پا رےس رما ےکی دای کے علاوہ
اک مین شر کے مطاب قشع کابھی طل ب گار ہونا ددہرکی بے انصاقی ہے۔ ای لیے اسلام نے
سو ضرا مکیا ہے خوادھ شی ذالی صروریات کے سے لیا جا با کارد بای اخمراض کے لے خواہ
ا کی شر حگ ہو یازیادہ۔ ال ت الام نے سر ماب کےکفعح 1وراستعا لکی منصنانہ راہ می رنھی
ہیں ۔ نو دکادو اکر نے با کی شک ت می کیارو بارکرنے کے علادد یگ ینمکن ےکہا پا ماش
یں شرکت کے اصول پک یکیاروبارکرنے دا کودباجاۓ ؛ مار بت سے۔ ایی ےکاردبارٹںش
اگ رضمارہ ہونے کاروبارکر نے والا ای کاددباری جدو جہدکاکوٹی صلہنہ جات ےگا اور ما دارکو انتا
کی رمابردابیں لٹ گاء جونقتصان کے بعد یر با و کارو ہار می لفقتصان ببہت سے الےے اسساب و
عوائ لکا مت ہہ وسلما سے کن 7 بیارارگ وا لن کوکوٹی تاب ہیں ہوا ۔ اگ رص ماب دارخودکا 00
کم نے کے بہ جات ےی دوصر ےک ککادوپاریی صلا ول بر اخ دکرتا ےو بھی سے مرا ند لینہ
مول دنا ہہوگاء اس سے گے گی اسلام کے نصنان نظام یس کوٹ ی ور کن یں مر مابرداراگر
اپنے سرمایے ش لک یکااند ینیل مول دنا حیاب تا ےل کی نوع ےبھی دست بردارہونا ہوگا۔
انساٹی ماج یش دوات اورکاروہاریی صلاعمتو ںکی یم جداجداے اس لیے ہرمواشی
[ظیام ہیں اصحا بے مابیرےکاروہارکی یت تک . نف نا اکوئیطر یق اختیارکرناناگڑرے۔
اسلام ےکا معاشی نظاے سر
ایک ربق سد بر می ہے جوکا رو با ری یق کے سا تح ھکھڑا ہو کم صصى زی ہل ا قظام
میں سود عام ا شیا ءکی لاگ تکا نیک لا زیی مر بن جاتا سے اور ا سکا بار بالا خر ان اشیاء کے
شر یراروں ےر پڑت سے۔ دوسراظ رق وہ ےہ جواسلام نے اتا کیا یی چو ا اپ ماب
تسا نکاانبشہ نہ مول لیا جا میں دہ غیرسودیی قرش دی اور جوف کا طلب گار ہو و وفع میں
ش رت کے ساتھ صا نکی ڈذتے دار یھی ٹھا ے ۔ اط ری کی خی می ےک عا ھت درو ںکو
ماب کے یز بیدا اور استعا لک یکو ی١" اگ ت کی ادارکی بڑکی اورکاروبارگی بے پ رھ ھک ہیں
ہوتا۔ بیلر قد مابیداروں کے سا تج بھی انصا فک رتا ےکیو ںکہ جب ا نکاصرمامیہ پیلد ادارشٹش
اضا نک بب بن رع کےس ات وائی ںآ تا ےا ھی ں بھی اس کا حصہیت سے۔ائسل ےکی ۰رت
مقر رکرنے کےسلسلے میں فریش نک پآ ادی حاصلل ہے اور اہر ہ ےک جب کارو بارش
زیادوٹفع ہوگا نو سر ماد ارکونگی "لے شدہکبعت کے مطالنی زیادہحص ٹل ےگا۔
سودک ی قرمت ےنت او کو مفالطہ ہوا ےک اسلائی نظم یں پیگو ںکیکنائل
یں ہیی 17) بیگوں کا کارویا ارسود کے وعھرے پیر ا کم کے یادہسود ٹر ند تر
7 ےکن بش مے ما ہے ۔کیو يک مار بت کے اصول بھی ینک چلاۓے جات ہیں۔
ریککئح میس شرلت کے اصول پرس را پکاددپاگی افراوکوف راپ مکی رو
ہونے دا لےنفع کا ایک حصہان لوگو ںکود میں گے :جھوں نے بینک بی سما بش عکیا ہو ۔اگ ری
کرو ہار ف رگ یکو بدیک کےسرمائے سے ہے جانے وا ےکا رو پار مل ارہ پوت برخسارہ یڑک
کےڑڈے وکا ٣+ ہوں کہ 703.و- ریک وٴت بہت ےکادو با ری ٹر لیو ںوس مابیئرا؛ راپ مر ےکا
اں لےکموئی طوربراسے اپےکاروبارمس خسارونہہوگ الف اک بھی ایا ہواھی و تصان
سب اسب جنگ میس ماش عکرنے والوں مم کردا چان گا خی یدگ بی رگا شس
تھوڑی مرت کے لے خی رسود قر بھی فرابم سے ایس م کیو ںکرہمندالطلب واجب الا
کھانوں (0 ازہ٥0 10 ٤ء ) رس طر رآ 97 وی سوویں دیاجاتا ۱ یطر )2غ یبر سودی
نام مس بھی نع کا ہنیس لے گا۔ اس مر۴یش پبیشہ اضل نم موجودرنتی ےھنن کے ایک
کو خی سودب یر دسنے کے لے استما لکیاجا ےگا بش یھی ساشادے کس و نو ہہ وکا لو
لک بی تکرنااورس ما یٹ غکرن مچموڑ دیس گے۔ پچ تصرف اس یک سکیا جال یہک ہیاۓ بہوئے
مم بے ار لغ یردوا کماٹی جا کے۰ ای یت ۓ ےز یاددطاقت درم رکا تگھی
۳ ار ا بای طاشن
ہیں ۔ پچ راسسلام نے سر اے تور اقاز بر دو تکمان ےکی رامیں 2 گی ہیں مصرف ا را کو
کیا ےکن مار دارفا نکی ڈھے وارگی ےکنا ون وٹ کا طا لب ہو ٹف کان کا
ر.قان انا نام زورکیں پ2 اک شع وی راہ بن ہو جانے سےسرد بے جاۓ ۔
الس ور تق شر ےق ے۔ پیٹر تح زیاد٭ظ بے ےس مابیدارول
سے لے میس اورا نکا سودآ در کےساتھ ہیی جانے وا شرع کے ایس ۶١ ۲۲۱)
100003-790 اوریصصسول دوات (×8 7 )۷۷٣٥[۵ کے ذ ر یی ز یا د٥7 امیر بابىداروںل ١ے
ٹم صو لک ر کے دیاجاجا ہے تم یہ ےک ہی کے باو جود می کچھ جا ا ےکا تم ط یف یاکوکی
0 هر ١ا سلائی نام ریاستکوام سے خی رسود قر نے ما ےکی اور ما تتی یی کمفر
راوس بی ملح نی ش کرت نے بصول یی اکر کی رات
اورمضمار بت کےیشری اصول تر قالی اکیموں کے لیے س ما یف راہ مرن ےکی قائل اخاد اد یں
ٍ۲ پا ارد نیا کے دوس رےمما لک بھی خی سودیی نظام اختیا رک ریس نے ٹین الات ابی ا ی
تحلقا ت وی ای جیادوں نف ریا اکا ہے۔
الا گی ر یا ستکا متا یکردار
تقو ق لیت کےسا رواپ می رووترگلکاروا رگا ےا نتگب اور
ْرضيرباق آااھت: ورڈ کی ذرضیت اورسودکی مت ء ان امو رکو یک دوسرے ے
اکر دیکھیے تو معیش تکا اب کخنص ون زار سا ےآ ا سے اس راع می مر بیدچشسگی ان ہدایات
سے پیا ہولی ہے جواسلام نے ریا ست کے بارے میس دی ہیں ۔
اسلام یں ر یاست ایک پا مقحصد ادارہ ےہ س-ے معا شر ےکی فلا و ہو ےممتحلقی
نین ڈتے داریاں اداکمپی ہیں ۔ ان ڈتے دار یں سے عبدہ بر ہونے کے لیے اس و
اخقیاارات د لے گے ہیں ۔ سا تھی فردوا تما کے ما تین پذازن برقر ار رکے کے لیے ر اس تکو
چئرمروراورآرا کا ڈگ یک ایا ہے اسلائی ر یاست بندگالن خدا یر خحداککادبین ناف کے دالا
ادارہ ے۔۔ سا تھی وہ اٹ اوِمعاش ہکا مار ادار گی ے٤ جوا نی مرضی کے مطائبی انی
فلا و ہہیود ے شع وہ قمام خد مات انام دینے پر مامور ہے ء جو محاہشرہ اس کے پپ رک رے۔
اف رادکوا یک دوس ر ےکی دست درازکی سےتفوظا رکھنا اوراجتا گی مفادکوا خر ادکی شعوری با خی رشعوری
ضرررسالی سے بچاناچھی اا سک ایک ابم ذتے دارگی ہے۔ اسلا گی راس تک بفیادیی ذتے داری
اسلا ےکا معاشی نظام ۵
اع پل عروف اورنہیگن اھکر اپنے ش ریو ںکیاعلیم اورتر بیت ہل ککادفاغ :سار ے انس و ںکو
نکی طرف دثوت دینا ءال سلسلے میس اگ رضردرت پڑ ےو چھاوک نا نیز کک می عدرل وقط اور
من دامان کےا کے ذر ے ہف ردی ان مال ارز ت وآ بر وتفو ظا رکھنا ہے۔ ال کی محائی
ڈڑے جار تر یں ازالینقراورکفالت عا مہہ مواشی ت قی کااچتمام او سم دوات کے اندر اتے
جانے وا لنےنفاو تکوک مک ناشائل ے۔
کغالت عمامہ سے ماد ےک الا ھی ملک کے عدود کے اندر نے والنے پرانسان
کی فیادی ضرور اتد ز نگ یک کی لکا اما مکیاجاۓ ان ماد ضرور یات ٹیل نذا ءا با٠
مکان اور عا رج شائل ٦ں _ حا طور پر اف راوآ آزادکیکاروباراورتتوق لیت سےکام لے ہو ئے
ابی ضروریات خود پور یکرییش گے ریاس تکوش لکر ےک یک موا روزگار می ل وخ بہواور
اٹ روکس موا کے لے سا گا رف میس رآ ے۔۔اسملائی محاشرے میں مال دارلوگ رض کارانہ
ور پر نادارو لکی مددکر تے و ہیں گے لان اس کے پاوجوداگ رک وی فرداس حال میں پایا جائے
کال کی بذیادیی ضمردر یات تہ پادگی ہو رہ بہو لت اسلائی ریا س تکی ڈڑے دارگی ےکہ ا کی
کر ےت کہ دارالاسلام می لکول یف وکا ء ہیک ےٹھکانہ او ھت گی حاات ۴یس ےعلان نہ
رے۔اس اصول مم خعمیکی اسر لال کے لیے مناسب ابو ںکی رف رج کنا جا ییے۔ یہاں
صرف| اک اسلا ئیحمراں ضر تکرب نعپد ال مکی گنگ وش رس کے جوگواد ےک
اسلائید یاست کےص ربراہاسل ذتے دارک یکا اوراشمحورر کے تے_
ا نکی موی فا لم /ہقی ہی سکہایک بارری شآپ کے پائ گی آپ جا نماز پر تے
اور نسوکی ک کپ فکرڈاڑع یکو کر ہے ےہ شس نے لو چاکیابات ہوئی ہے؟ آپ
نے فرمایا: ٹس نے اپودگی امت مہہ ےکی ڈے داریی ااٹھا ری یب ایق ای ن ک١ کے
قیروں, ے سہارا ضر پیضوں, ماپر بن مظلوم اور رہرہ - اووگز یب الد بار
قیریوںء بہت بوڑ ھے افراداورانلوگوں کے پارے میس سور ر ہاتھاء جو ۔کنثزرت ال و
عیال وا نے ہی ںگگر مال داریش میں اورشلف علاقوں شی ایم کے دوسرے افراد
کے بارے میں متھکرتھا۔ بے احساس ہو اکیگنتر یب قیامت کے دن ال جج سے الن
سب کے پارے میل او جیکھےکا اور اد کے تضمورمیر ے مھا مس ان لوکوں کے وکییل
جر ینہ ہوں کے۔ بے ڈراگ ارت یل مبراعذرثابت نہ ہو ےگا اور اینے او پر
تر ںکھا کے رو نے گار“ (ابین اشیر:الکائل جلد ۵ہ“ )٣٢
٦ اسلخ ”گا مضاعی طل_
کفاات عاق کی ڈتے دارگیے انی صصورت میں عید ویر ہوا حا کا سے جب کل کک
معاش تیروت قی کا پورا تما مکیا جا ۔ مہ امام اسلائی لت کے فو بی اسام اور ا کی
دفا ہی قوت کے لےبھی ناگم مر ےہ جس سکااند تی ن حم د یا :
و اَعِدُوْا لَهُمْ ما اسْعَطَعمْ مَنْ قُوَةٍ (وادل:٠٠)
”ارران(زموں) لے تی قو تم ےلکن ہوف را بھمکر سے
دورجد یش اسلائیئمللت کے لی ماش ی تیروت قی خی رمعم ول ابیبت تی ےکیو ںنکہ
اکر ا ےآ کی دیاش انی تہذہی انفرادیت برق راد رککتے ہہوۓ داعیا: تےگررار او اکرنا ا
معاشی طور برخوزیل اورائٹی لاشو ںکی معای انرااہت نے ٹا 36ت چا ہے۔ اسلائ تارت
گواو ےک جج اسلائ را نوں نے مل کک معائیفیروترئی 070 ا ھاے۔
یبا تکراسلائی ریاست ای می بای اخیا 7 20 و
دوات اور دن یکیاشسیم کےاندد ایا جائے والا ناو تک ہومتعد فضصویل سے حابت ہے۔ دوات
کے ارجا زکا خلاف اسلام ہونا ان شجورآیت سے ثابت ہے :جس میں یم ن ےکا ضابلہ مان
کر کےا کی حلرمت 70 ےکم ما لھارے مال دارول بی کے درمیا نگمرخ شکرتا یر٥
جاے۔' کی لا کون دُوْلَةَ' بَیْن الاعَنيآءِ مِنكُمٰ+ “'(اشر:ے)
ی7 دی ادبی توق لیت اورا آزادی اکاردبارٹیل ر پاست 1 مراغلت
اد یر ان وق اخقیارا تکی طرف اشار ٥کیا جاچکا ےء جوعدرل کے قیام اورضروری
مقاصد کے تصمول کے لیے اسسلائی در یاس تکود نے گے ہیں ۔الن یش ے مخ کا ڈکرمناسب
ہوک حراش سے لے می یاددلاد ینا ضرددبی ےک اسلائیحکوم تک کیل شب یں کےآ راراڈے
تاب کے مج یس ہوئی ہے اور ای ںعکومت کے کارکنوں کے لس اقساب اور اسلا مکی
خلاف ور زگ کی صورت میں ھی معزو لکمرد ہی ےکا اخضا ھی حاصل سے اسسلا یحکومت کے
لیبضروری ےک تماما امورمیں با بھی مور کے ذ ر یت یلت کے ےکا ط رق اتا رک رے۔
ساتھ یپ شر عکوایک ابی علیہ س ےکتاب وسنت کےمطابقی انصاف چا کے موا مسر
ہو ئے جا ایس ء جوعکومت وقت کے دبا ےآ زاوہو_
اکا تقو قی کے استالل اورکارو ہار رگ ریو کےمکن ٹل ر یاستکا کام می ےکہ
وہ اس فلت س رد ۓاقارزددرۓدےاوراڈرا وکوا ن تقو قی ے واابست ذتے داریال بالانے
الا رگا سان ظا ےا
کا بابندر تھے ایک اص وٹ بات سے یس کا اطلا ق قھام ما لکا نہ تقذقی اورکارو ہار سرگرمیوں >
بت ے۔ اگ رکویخص۱ تید ےل یر ناعاقیت اند کی ءم نی یااخلاقی فسادکی وج ے١ ئی دوات
کونارواطر یق سے ما ہکرر باہو عکوصت ا سکی دول تکوا ٹیگ رای ٹس لن ےک را کی ضروریات
ری رن کا ا تما مر ےگ ۔مسمل اصراف کے ارہمتاب پرمز آریں' گے نے وکا عاسکتا
سے ناما نیش کے استا لک یممانعت یابالوا۔ ہہت جن سر کے اخخیا ر سے حاسکت ہژں۔
علومت زرگی ؛ نع اورتمارثی کاروبا رکال احقسا بکرقی ر ےکی او رکاروپارگ اثراداور
ادارو ںکومحتروف کے مطاإئ کا مکمر نے رو رر ےگی۔ امسلائی جار تالی ےگ 'ب“یا
2 ساب کے نام سےکازد بای سرگرمیوں اکیگرانٰ خلاتِ 17ھھ/ عھرائوں ئ۲
دورجیں برابرچاری رتیراے۔ ۱
یر عالات مل اشیاءکی ڈوو زیر مررنكف: ال۔اورنٹح کیاش رو ںکیا تین طلب ورسدر
ان تال مرا ۶ خی متاجشرے می ں تی رخوابی اودرتتراون با ھی کے ہیں رو نی
عالیٰ سے کہ یں اور گل مصفاء ہوں :۰ اورعکومتکویرا خلت کی ضردرت نہ ڑا ےگ مگر
جو لی حالات میں اسائیعلوم تنوتوں اورشرجو ںکی می نچھ یکرسلتی سے نوا مکوکاروباری
کی بے الف اندوزی اورض رررسانی سے بھایا جا کے ۔ اس مداخل تک ضرورت اجار لڑنْ
تھی ےہا کے ےکی جانے والی ذخیرہاندوزیی اوراجارہ دارگی کے بی نظ رہق ے۔
الا ہی عکومت ذ خر اندوزکی اوراچار٭دارگیٰ کے غلا ف دوسرے اق اما تشگ یکر ےگی۔
اسلائی راس تکودفا گی ذے راز لإں_ ےگ پر بر ہو ے اور الئع ظلائی غد ما کی
اضجام دی کے ےہ جوش ریت نے اس کے ذ مکی میں یاافرادمتاشرہاس کے ذ مک بک .ون می
سای رر گے۔ر یاس تک یآ دی کے عام ذ راع سرکاریی زیو ں ک اک رامش خر اع ء
حشرو زکو کید فی کا ایک حصہ وغبرہ۔ ددرجد بد شش ان ڈے دار و کی اداٹی کے لی ےکائی
کی ہو سیت ۔رش رلیعت نے اےًے عالات ٹیل ج بکہابم اہت گ یکا مموںل کے لیے ر اس تکوعنز یل
ا لک ضرورت ہو أسے مہاخیارد یا ےک مال دارول سے ال نکی فا صصل دوا تکا ایک <صطلب
کر نے۔ افرادمعاشرہ طورخود جوفلای خحد مات ریا ہت کے پر دک سی ان کے مصارف اور
آریے ھ لی ےعوا مکومنز یرحاصل اداکر نے رں گے دوزر جد گی اہلای ریاست شر
۸ سار ٣ا سماعی ظا
9 ال کے علاو میا ارم مل بھی عا مرک ےکی ء جودوات وآ مدکی بھی لگا چاسکت ہیں اوراشیا و
مد مات بگگی۔
یس زع اق ا کرد ٹفش گی تی من کے این وا پر
ٰ کر کااغخیار ہے اىیط رع ناگز مرعالات شی اے زمشن مار انے ہیا دو کی اشیاءخر بل نے ء
راہ پر عاص۷ لکرنے با عار ینا لین ی٠ یا ماب قرغ فی بیس بر کے استعا لکا بھی اخیار
سنا از رعالات ٹیل چک قخط :ساب یاد ہاۓ عا بھی انل ہیں اوراہم محاجی منص وبوں
کیل سے تق نکی ۔اللید اس انختیا رکا استعال اس ام برموقوف ےک متعلقہ ٹیل شورائی
ری پریے جا ہیں۔عا ضرر کے از انےاورا م اہم ہی مففادات ک ےتح فا کے لیے اسسلا ھی ریاست
خی لیت کاط رہ 2۷ یھی انا رپ 001-17 .2 لقہان زمیترار اول اورحا اگیردار یں
کے پیل لظم خی رکر نا ض روریی ہکا 9 ص 0ء )/
اسلائیانظام ےکوگی منا سب ٹنیس رکتیں۔ ٰ
اسلائیریاست پیدا آورکاددبارک مکی ہے۔ق رن ال می۲ بھی ریاست کے زیر اجتمام
902 روج اہر ہج ےک دو مق ددز تھا کا ران ات کر ےکی ٹیش
بھی یں ۔اسسلائی ریا ست ابٹی دفا گی اورفلا تی ذتے داربیوں کے یی نظ راس با تک ضرورت
نو ںک تی ےک رات نو ںکوتو می دائزے می ر کے اوران می لگ یککاروبارمنوح قراررے
دے۔ مرکزی بین ککاریءانٹوسہ ڈاک وجا رکا حگرہ وی ردصنمتوں سے اچم فلاگی مد مات
وابۓ ہُں :نشی و اتکی اسلع اورسامان ہک کلیدری ابمیت رکے دای منعد مات لا ٹول
وی تع قھنعتو ںکوزائی مفاد کے لیے ہے جانے وا لےکاروبار کے جوا ےگ۷ردہینے سے اچم
اجشما گی مفادات خفطرے میں بے سکتے ہیں ۔چناں چان اوقات ا لک یبھی ضرورت بڑحھتی ےہ
اق مک یکوئی صتعت سیل پرائو یٹ ٹر و 72 ملک
یائے۔ غیجل کا مرارانفرادکی مفادات کے ەتقا ٹل می انتا کی ممادات ومصاغ کے تا نی ہویں گے
اوزمتحاقلہ اف راد کے سان بی معاوض,ہۓ یل اوراانصاف برا جا نف ےگا ۔اسلام ایک فلنے کےطور بر
ایاورک اج مکی ت کا لیس ہے ۔ سی نع تکڑویل می لی ےکافیصل ہما تر
عالات اورضرور بات پ نی ہوگاء ہے فیصلیجھی شورائی طریلیقے سکیا جات گا اور اس کے نغاذ یل
عدل دانصاف کے اسسلائی اصصولو کی پابند کی جات ۓےگی۔
اعلاضش اقاسماعحیطای ۹
محاش یم روتر تی کے لیے نصو رہ بندکیمکنٹرول اورقو بیپحومل بیس لے جیلے افکر امات
فننیزننیں ے خواوفف اتا گی مکی تکا ہو یا انف راد مکی تکا۔ اصل ابمیت اس مقص کو حوصل
ہ ےکہال کی زین پر ال کےتمام بندو نکش روفا قہ ہخوف د ہراس مم مان و ال وزلے
ایراڈیافین تک وق ۓ 27ت گی لم یہ ضس شش نفر اش الی رف خشد از دیون ا کا
عم ریا تا آزادہو ہا لکی ما کی ضردریات وی ہوں اوراے روعالی کے ا خلا یی ارتقاء
ارای ذاتءغانران کلف ود زی ایت کی شت کے دن 2ی موق جال میں۔
ایا رائوی اکر زگ لتےفورے+للؤ قراط یماح گی نز وب تم بالی دی
اتی ہے رک راسلائی ظا ماق کاو تذان در ہم بر ہنی سکیا چاکتا۔ موی تر قی کے لیے
آنز اد یکی یا آزرادکی کے لیےموا مکی محائی فلا 7ل کی اسلام می سکوئی ناش
یس الہ تہ دوفو ںکوساتحھ حاص لک نے کے لیے وکس رد اکسا ناگز مہ ےءذ از نکی بی طلب
دورجد یرش ماش ترقی کے یصو ہہیند کرنے ول اسلائی ریاس تک رما موگا۔
الام اوردوم ے معائی نظا 1
نے سلام ےسا ام ےا رداق ورتاخو یھ
0 ےلیک می نکی ے۔ موی طور بر جوفقشہ سا ۓآ ۳ سے و منفرداورممتا زی بۓھافٹر :
اعلام کے میادی عقا راودائل ک مزا ےچ نکی ہے اگراسی یلو یرت رت
دوسرے ظا ےکوی عما جس نکی نان لو گنی جم انت جزنوی او فی +وگی سکوئی دوصرا
نام ور اص لگمل ظا میں ہے بللہ چند اصصولو لںکو خی رمعتترل اور نا مناسب حدکک ابمیبت دے
رت تا اک ظا سم دنو 7 ہے۔لظا مم ا۔داری یسا رانک رتو قملبت اورآ زادی کاروبار
کےکررکھوتا ےپور ار ہەم ہے( مانہ
7ے چرا2ا یا اصلاجا تک +ں :00 بجھاعترال پر ہواورااعیت کے تا لے
پورے ہوں زظام اش ایت یا سوشلز مکا سماراز ورذ ران پیدرادارکی اجشا گی لیت اورر یا صت
کے موا یکردار سر ےءافظراذگ یت قی اور سنا شی نکی ٹیس افراد کے ہا بھی نعلقات کے پارے
٠.43 رو یی او مم ے۔ وش تگمز رنے کے ساتح چھواعتترال پیرا ہوا ے اور ذ ای علیت:
آزارک يکاروپاراورذا ی مکومماشی جدوچہ کا نحرک بنا ےکی پچ ئکنکش کا یکئی سے لیر بی
سچھنا سادہلوگی ےکہ ا جا پیندیی می کی اور جتزدکی اصلا حات د ناو ایک معتترل اورم ازن
متائی ذظا عط اکر نے جار بی ہیں ء جواسلام کے ممائی نظام سے بہت خر یب ہوگا۔
2 کے بارے میں جج روہ ءکا تا کی موجودات کے سے میں منا سب
بر اوردوسرے الما وں ےموز ول نعلقات بے چا لف ہ ںل۔حیات: کا جات اور انمان کے
بارے میسآدییکالک رپ ہو۔ خللط افکار کے نشج یش پیدراہونے دا لن ےتلقات برتا ڈاورروئے غاط
6 ہوسکۓ ہیں ۔صرعامیردارکی اور اشت رایت رولوں حیات کا مجات اور انان کے بارے می
ایک میک رر کھت ہیں۔ دونوں خداءآخرت اور جدابیتہ ای کے مر سے عادرکی مہں اور ماڈکی
ترروں ہ یکو ای تین اق ار ہیں طبقا یک کش ہو یا مھ فان مسابقتء ایک پاٹ کی
آمریت ہو یا کڈ ےکا رو ہار یو ںی اجار داریی ء دوا تچ کر ن ےکی حیس و باقوت داقت ارکی
پیل ءسب غلط عق کی پیدادار ٹیں- ج بتک زندگ یکا مدکی قانون رایت البی نی ہ۷
صنف وسل ءز پان ورک اورطبقدو پیش کی ہفیاد یہکیا جانے وا ایا زی سلو کی ںضخ ہوسکنا جب
تک انمانوں شی ایک ناندان گج افر اد اوران مرا کے بنرے ہو کا اصورمماواتء
مواسا ة اورتاون کے رتا اعم سار ےا نعل تر گیو دا سوتت عااات
عاصل ہونادشوارے_۔
ا یں منظ میں دیکھیےتذاسلا مک ماش نظام ایمان یجردم دداغچا غوں کے درمیان
مھقی ہوکی اس دنا کے لیے اک یت ہے۔ بی خداکی دبین ہے ال ںکوقبو لکمر نے میں ہرقوم
یما ں غ مو ںکرلق ہے۔ بقیدہ دنگییرے وابستۃ ظا صرف اون 2ء - + ,
قائم ہوتا۔ ایک جا نظام زندگ یکا ایک پہلو سے۔ اس لیے انسانی زمدگی ٹیش وازن برثرار
رتا ے٤ رسب کے بر وردگا رکا نایا ہوانظام ہے۔ اس ٹیل کسی صنف ءعلبقہ ماگر و کے ساتھ
ہے انصائی کی 0 جائکتی۔ اللیسیں فوخ در ےکہ ا سفق کی ف رر سس ار ا عہارنےۓغ
انمانو ںکک پیا میں۔